15 جون 2013 - 19:30
ایران کے صدارتی انتخابات میں روحانی کی فتح پر عالمی رد عمل

14 جون کو منعقد ہونے والے ایران کے صدارتی انتخابات میں حسن روحانی کی فتح پر مختلف ممالک کی جانب سے رد عمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

ابنا: سنیچر کے روز امریکی حکومت کی جانب سے جاری کیےگئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ انتخابات کے نتائج کا احترام کرتی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی نے امید ظاہر کی ہے کہ ایرانی حکومت ایک بہتر مستقبل کے لئے ذمہ دارانہ طور پر قدم اٹھائے گی۔فرانسیسی وزارت خارجہ نے بھی انتخابات میں شرکت کے لیے ایرانی عوام کے عزم کی تعریف کی ہے۔فرانسیسی وزیر خارجہ لارین فیبیس نے کہا ہے کہ فرانس، ایرانی جوہری تونائی کے پروگرام اور شام کے تنازعہ پر روحانی کے ساتھ کام کرنے کے لئے تیار ہے۔دریں اثنا، برطانوی دفتر خارجہ نے ایران کے نو منتخب صدر کے موضوع پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے تھوڑا مختلف لب و لہجے کا استعمال کیا ہے۔ بیان میں روحانی سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعمیری تعلقات کی طرف ایران کی رہنمائی کریں۔یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے کہا ہے کہ یورپی یونین، تہران کے جوہری پروگرام پر روحانی کے ساتھ کام کرنے کے لئے پرعزم ہے۔افغان صدر حامد کرزئی نے بھی صدارتی انتخابات میں روحانی کی فتح پر قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای اور ایرانی قوم کو مبارکباد پیش کی ہے۔ کرزئی نے ایران کے ساتھ باہمی تعلقات میں مزید توسیع کا مطالبہ کیا ہے۔سویڈش وزیر خارجہ کارل بلڈٹ نے بھی ایران کے ساتھ باہمی تعلقات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔غور طلب ہے کہ ایرانی وزارت داخلہ کے مطابق کل 36,704,156 صحیح ووٹوں میں حسن روحانی کو 50.7 فیصد  یعنی کل 18.613.329 ووٹ حاصل ہوئے، اور وہ ایرانی عوام کے منتخب صدر ہیں۔......./169